We will upload Islamic Lecture Videos Audio and Books in Arabic English Urdu and Pashto languages

Articles by "Urdu posts"




  1. فضائل ماه رمضان

  2. اللہ سبحانہ وتعالي نے عبادات ميں روزوں كوبہت سے فضائل وخصوصيات سے نوازا ہے، جن ميں سےچند ايك ذكر كيےجاتےہيں: -  روزہ اللہ تعالي كےليے ہےاور اس كا اجروثواب بھي وہي  دےگا، بخاري شريف ميں ابوھريرہ رضي اللہ تعالي عنہ سےحديث مروي ہےكہ:
  3. رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا: ( ابن آدم كا ہر عمل اس كے ليے ہے ايك نيكي دس نيكيوں سے ليكر سات سو گنا تك ہے، اللہ تعالي كا فرمان ہے: سوائے روزے كےاس ليےكہ روزہ ميرے ليےہے اور اس كا اجروثواب بھي ميں ہي دونگا، اس نےاپني شھوت اور كھانا پينا صرف ميري وجہ سے ترك كيا ) صحيح بخاري حديث نمبر ( 1894 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1151 )

  4. حافظ ابن رجب رحمہ اللہ تعالي اس روايت پر تعليقا كہتےہيں
  5. سارے اعمال دس گنا سےسات سوگنا تك بڑھائے جاتےہيں ليكن روزہ اس تعداد ميں منحصر نہيں اس ليےكہ روزہ صبر ميں شامل ہوتا ہے اور اللہ تعالي كا فرمان ہے: {اللہ تعالي صبر كرنےوالوں كوبغير حساب اجروثواب سےنوازےگا} الزمر ( 10 ) ديكھيں: لطائف المعارف ( 283 - 284 ) .

  6. پھررحمہ اللہ تعالي كہتےہيں
  7. آپ كےعلم ميں ہونا چاہئے كہ اجروثواب كي زيادتي كےكچھ اسباب ہيں جن ميں عمل كيےجانےوالي جگہ جہاں وہ عمل كيا جارہا ہےكا شرف ومرتبہ ہے مثلا حرم ..... اور ايك سبب زمانےاوروقت كا شرف ومرتبہ بھي ہےجيسا كہ ماہ رمضان المبارك، اور عشرہ ذوالحجہ..... لھذا جب باقي اعمال كےمقابلہ ميں روزہ في نفسہ اجروثواب ميں زيادہ ہےتو ماہ رمضان المبارك كےروزے ماہ رمضان كے شرف ومرتبہ كي بنا پر باقي سب روزوں كےاجروثواب سےزيادہ ثواب كےحام ہيں، اوراس ليےكہ اللہ تعالي نےاپنےبندوں پر اس ماہ مبارك كےروزے فرض كيے ہيں اورپھر دين اسلام كےبنيادي اركان ميں سےايك ركن بھي ہيں . اھ ديكھيں لطائف المعارف  ( 284 - 286 ) اختصار كےساتھ.

  8. اور ايك روايت ميں ہےكہ
  9. ابوھريرہ رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا: ( ہر عمل كا كفارہ ہے اور روزہ ميرے ليےہے اور اس كا اجرو ثواب بھي ميں ہي دونگا ) صحيح بخاري حديث نمبر ( 7538 ) .

  10. ابن رجب رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں
  11. اس ( روايت ) كي بنا پر استنثناء اعمال كےكفارہ پر دلالت كرتا ہے، اور اس كےمعني ميں سب سےبہترسفيان بن عيينہ رحمہ اللہ تعالي كا قول يہ ہےكہ: يہ حديث سب سے محكم اور بہتر ہے، روز قيامت اللہ تعالي اپنےبندوں كا حساب وكتاب كرےگااور اس كےسب اعمال كےنقصان كوادا كرديا جائےگا اور صرف روزے باقي رہيں گےتواللہ تعالي اس كےذمہ جوبھي مظالم اورنقصان ہونگےوہ اپنے ذمہ لےكر اسے جنت ميں داخل كردےگا.

  12. اسے امام بيھقي رحمہ اللہ تعالي نے شعب الايمان ميں نقل كيا ہے....

  13. لھذا روزے كےمتعلق يہ كہنا ممكن ہےكہ: اس كا اجروثواب قصاص وغيرہ ميں ختم نہيں ہوتا بلكہ روزے دار كواس كا اجروثواب پورا ملےگا حتي كہ وہ جنت ميں داخل ہوگا تواسےاس ميں پورا اجروثواب ملےگا. اھ ديكھيں: لطائف المعارف ( 286 ) .

  14. اور ان كا يہ بھي كہنا ہےكہ
  15. اللہ عزوجل كا يہ قول : " بلاشبہ يہ ميرے ليےہے" اس كےمعني ميں سب سے بہتر اوراچھا قول يہ ہےكہ اس كي دو وجھيں ہيں :

  16. پہلي: يہ كہ روزہ نفساني خواہشات جن كي طرف نفس كا ميلان ہوتا ہے انہيں اللہ تعالي كےليےترك كرنےكا نام ہے، اور يہ چيز روزے كےعلاوہ كسي اور عبادت ميں نہيں پائي جاتي .

  17. دوسري وجہ: روزہ اللہ تعالي اور بندے كےمابين ايسا راز ہے جس پر كوئي اور مطلع نہيں ہوسكتا، اس ليے كہ روزہ باطني نيت سے مركب ہے جس پر اللہ تعالي كےعلاوہ كوئي اور مطلع نہيں ہوسكتا، اور ان شھوات كےترك كرنے كا نام ہے جو عادتاخفيہ طريقے سے كي جاتي ہيں. اھ  ديكھيں: لطائف المعارف ( 289 - 290 ) اختصار كےساتھ.

  18. 2 -  روزے دار كو خوشياں حاصل ہوتي ہيں: جيسا كہ بخاري اور مسلم شريف كي مندرجہ ذيل حديث ميں بيان ہوا ہے:

  19. ابوھريرہ رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

  20. ( روزے دار كو دو خوشياں حاصل ہوتي ہيں جن سے وہ خوشي حاصل كرتا ہے، جب روزہ افطار كرتا ہے توافطاري كي وجہ سے اور جب وہ اپنےرب سے ملے گا تو اپنے روزے كي وجہ سے خوش ہوگا ) .

  21. ابن رجب رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں كہ
  22. رہي روزےدار كي روزہ افطار كرتےوقت حاصل كردہ خوشي تو نفوس پيدائشي طور پر ہي كھانےپينےاور نكاح وغيرہ جواس كےموافق ہيں كي طرف ميلان ركھتے ہيں لھذا جب اسےكچھ وقت كےليے ان سےروك ديا جائےاور كسي دوسرے وقت جوكچھ اس كےليے مباح نہيں تھا اسے جائز كرديا جائے اور خاص كراس كي بہت زيادہ ضرورت اور حاجت كي شدت كےوقت توطبعي طور پر نفس اس سے خوشي حاصل كرتا ہے، تو اگر يہ اللہ تعالي كومحبوب ہے تو شرعا بھي محبوب ہوا، اور افطاري كےوقت روزے  دار بھي ايسے ہي ہے، اور جس طرح اللہ تعالي نے روزے دار پر دن كےوقت ان شھوات والي اشياء كا استعمال حرام كيا ہے، اور اسےان اشياء كي روزں كي رات ميں اجازت دي ہے، بلكہ رات كےشروع اور آخر ميں تو كھانا پينا زيادہ محبوب ہے..... روزے دار اللہ تعالي كا تقرب حاصل كرنے اور ا س كي اطاعت  كے ليے دن كےوقت شھوت اور كھانے پينےكي اشياء ترك كرتا ہے تو رات كےوقت اللہ تعالي كا تقرب اور اس كي اطاعت ميں انہيں استعمال كرنےميں جلدي كرتا ہے.

  23. اس نےان اشياء كو ترك كيا تو اپنےرب كےحكم سے اور انہيں دوبارہ استعمال كيا تو پھر بھي اپنےرب كےحكم سےہي ، دونوں حالتوں ميں ہي وہ اپنے رب كا مطيع وفرمانبردار ہے.... اور اگر وہ كھانےپينے ميں قيام كرنے اور روزہ ركھنےكےليےبدني طاقت حاصل كرنے كي نيت كي تواسے اس كا ثواب حاصل ہو گا، جس طرح اگر اس نےدن يا رات كےوقت نيند كرنےميں اعمال كرنےكي طاقت حاصل كرنےكي نيت كي ہو تو اس كي نيند بھي عبادت بنےگي ...

  24. جس كي طرف ہم نےاشارہ كيا ہے جوكوئي اسےسمجھ جائے وہ اسي پر نہيں رہےگا كہ روزےدار كوروزہ افطار كرتےوقت خوشي حاصل ہوتي ہے بلكہ اگر وہ اس طرح افطاري كرتا ہے جس كي طرف اشارہ كيا گيا ہے وہ اللہ تعالي كےفضل ورحمت سے اللہ تعالي كےاس فرمان ميں داخل ہوگا:

  25. {كہہ ديجئے كہ اللہ تعالي كےفضل اور اس كي رحمت سے انہيں خوش ہونا چاہيے يہ اس سےبہترہے جو وہ جمع كررہےہيں} يونس ( 58 )

  26. ليكن شرط يہ ہےكہ اس كي افطاري حلال چيز پر ہو، اور اگر وہ كسي حرام چيز پر افطاري كرے تووہ ان ميں سےہوگا جو اللہ تعالي كي حلال كردہ اشياء سےتوروزہ ركھتےہيں اور اللہ تعالي كي حرام كرادہ اشياء كےساتھ روزہ افطار كرتےہيں، توايسےشخص كي دعاء قبول نہيں ہوتي جيسا كہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا ايسے شخص كےبارہ ميں فرمان بھي ہےجو دور دراز كا سفر طے كرتا اور دعا كےليے آسمان كي طرف ہاتھ بلند كركے يا رب يارب كہتا ہے ليكن اس كا كھانا پينا حرام كا اس كالباس حرام كا اور اس كي غذاہي حرام كي تواس كي دعاء كيسے قبول ہو.

  27. صحيح مسلم حديث نبمر ( 1015 ) اس كےراوي ابوھريرہ رضي اللہ تعالي عنہ ہيں.

  28. اور روزے دار كي رب سے ملاقات كےوقت خوشي اور فرحت اس ليے ہوگي كہ جواسےروزہ كا اجروثواب اللہ تعالي كي جانب سےملےگاتووہ اس كا بہت زيادہ ضرورت مند بھي ہوگا جيسا كہ اللہ تعالي كا فرمان ہے:

  29. {اور تم جونيكي بھي اپنےليے آگے بھيجوگے اسے اللہ تعالي كےہاں بہتر سے بہتر اور ثواب ميں زيادہ پاؤ گے} المزمل ( 20 )

  30. اور ايك مقام پر فرمايا
  31. {اس دن ہر نفس نےجوعمل بھي كيا ہوگا وہ موجود پائےگا} آل عمران ( 30 )

  32. اور ايك مقام پر كچھ اس طرح فرمايا
  33. {جوكوئي بھي ذرہ برابر بھي نيكي كي ہوگي وہ اسےديكھ لےگا} الزلزال ( 7 ) اھـ ديكھيں: لطائف المعارف ( 293 - 295 ) .

  34. 3 -  روزے دار كےمنہ كي بواور سرانڈ اللہ تعالي كےہاں كستوري كي خوشبو سے بھي زيادہ اچھي ہے، جيسا كہ صحيح بخاري اور صحيح مسلم كي مندرجہ ذيل حديث سے واضح ہوتا ہے:

  35. ابوھريرہ رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا
  36. ( اس ذات كي قسم جس كےہاتھ ميں محمد صلي اللہ عليہ وسلم كي جان ہے قيامت كےدن اللہ تعالي كو روزے دار كےمنہ كي بو كستوري كي خوشبو سے بھي زيادہ پياري اوراچھي ہے ) صحيح بخاري ( 1894 ) صحيح مسلم ( 1151 ) .

  37. حافظ ابن رجب رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں: خلوف فم الصائم: خلوف اس  بوكو كہتےہيں جو روزے كي وجہ سےمعدہ خالي ہونےكي بنا پر معدہ سے سرانڈ اٹھے، يہ دنيا ميں تو انسانوں كو اچھي نہيں لگتي ليكن اللہ تعالي كو بہت اچھي ہے كيونكہ يہ اس كي اطاعت اور اس كي رضا مندي كےحصول كےليے كي گئي اطاعت وفرمانبرداري كي وجہ سے پيدا ہوئي ہے. .... روزے دار كےمنہ كي بو يعني خلوف اللہ تعالي كوپسند ہے كےدو معني ہيں:

  38. ايك معني تويہ ہےكہ:

  39. جب دنيا ميں روزہ اللہ تعالي اور اس كےبندے كےمابين ايك سر اور راز تھا، تو اللہ تعالي نےآخرت ميں اسے مخلوق كےسامنےعلانيہ طور پرظاہر كرديا تا كہ اس كےساتھ روزے دار مشہور ہوجائيں، اور دنيا ميں اپنےروزے كےاخفاء كي بنا پر آخرت ميں لوگوں كےمابين اپنےروزے كااجروثواب جان ليں ....

  40. دوسرا معني :

  41. جس كسي نےبھي دنيا ميں اللہ تعالي كي عبادت اور اطاعت كي اور اللہ تعالي كي رضا وخوشنودي كےحصول كےليےكوئي عمل كيااور اس عمل كي بنا پر دنيا ميں كچھ ايسےآثار اورعلامات پيدا ہوں جو نفسوں كواچھي نہ لگيں تو اللہ تعالي كےہاں يہ آثار ناپسديدہ نہيں بلكہ اللہ تعالي كوبہت ہي زيادہ پسنديدہ اور اچھے ہيں، اس ليے كہ يہ اللہ تعالي كي اطاعت واتباع اور پيروي اور اس كي خوشنودي كےحصول كےليے كےگئےعمل كي بنا پرپيدا ہوئےہيں، لھذا اعمال كرنےوالوں ان كےدلوں كوخوش كرنےكےليےاس كي انہيں دنيا ميں ہي خبر دي گئي ہےتا كہ وہ دنيا ميں اس چيز سے كراہت نہ كريں .  ديكھيں : لطائف المعارف ( 300- 302 ) مختصرا .

  42. 4 -  اللہ تعالي نے روزے داروں كےليے جنت ميں ايسا دروازہ تيار كيا ہے جس سے صرف روزے دار ہي داخل ہونگےان كےعلاوہ كوئي بھي اس ميں سے داخل نہيں ہوگا جيسا كہ مندرجہ ذيل بخاري اور مسلم كي حديث ميں بيان ہوا ہے:

  43. سھل بن سعد رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

  44. ( جنت ميں ريان نامي دروازہ ہے روز قيامت جس ميں سے صرف روزے دار ہي داخل ہونگےكوئي اور اس ميں سےداخل نہيں ہوگا، پوچھا جائےگا روزے داركہاں ہيں؟، روزے دار اس ميں سےداخل ہونگے، جب آخري روزے دار داخل ہوجائےگا تويہ دروازہ بند كر ديا جائےگااوراس ميں سےكوئي بھي داخل نہيں ہوگا  ) صحيح بخاري (1896 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1152 ) .

  45. 5 -  جس كسي نےبھي اللہ تعالي كےراستےميں ايك روزہ ركھا اللہ تعالي اس كےچہرہ كو ستر برس آگ سے دور كرديتا ہے، جيسا كہ مندرجہ ذيل بخاري اور مسلم شريف كي حديث سے ثابت ہوتا ہے:

  46. ابوسعيد خدري رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

  47. ( كوئي بندہ بھي اللہ تعالي كےراستےميں ايك دن كا روزہ نہيں ركھتا مگر اللہ تعالي اس دن كےبدلےميں اس كےچہرے كوستر برس آگ سےدور كرديتا ہے ) صحيح بخاري حديث نمبر ( 2840 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1153 ) .

  48. امام قرطبي رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

  49. سبيل اللہ سے اللہ تعالي كي اطاعت وفرمانبرداري مراد ہے، تواس سےمراد يہ ہوئي كہ جس نےبھي اللہ تعالي كا چہرہ اور خوشنودي كےحصول كےليے روزہ ركھا.  ديكھيں فتح الباري ابن حجر ( 2840 ) .

  50. 6 -  روزہ آگ سےڈھال ( يعني بچاؤ ) ہے، صحيحن ميں ابوھريرہ رضي اللہ تعالي عنہ سےحديث مروي ہےكہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

  51.  ( روزےڈھال ہيں )

  52. اور عثمان بن ابوعاص رضي اللہ تعالي عنہما سےمروي ہےوہ بيان كرتےہيں كہ ميں نےرسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كويہ فرماتےہوئے سنا:

  53. ( روزے آگ سے اس طرح ڈھال ( بچاؤ ) ہيں، جس طرح لڑائي ميں تمہارے ليے ڈھال بچاؤ ہوتي ہے ) مسند احمد ( 4 / 22 ) سنن نسائي حديث نمبر ( 2231 )، علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نےصحيح الترغيب ( 967 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

  54. 7 -  روزے خطاؤں اور گناہوں كا كفارہ بنتےہيں جيسا كہ مندرجہ ذيل حديث ميں بيان ہوا ہے:

  55. حذيفہ بن يمان رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ ميں نےرسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كويہ فرماتےہوئےسنا:

  56. " آدمي كا اس كےمال اور اولاد اور اھل وعيال اور پڑوسي ميں فتنہ وآزمائش ہے، اسے نماز، روزہ، صدقہ وخيرات اور امربالمعروف اور نھي عن المنكر ختم كرديتےہيں اس كا كفارہ بنتےہيں.  صحيح بخاري حديث نبمر ( 525 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 144 ).

  57. 8 -  روزقيامت روزے دار كےليے روزہ شفارش كرےگا:

  58. عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضي اللہ تعالي عنھما بيان كرتےہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

  59. قيامت كےدن روزہ اور قرآن مجيد بندے كي سفارش كرينگے، روزہ كہےگا يارب ميں نےاسے كھانےپينےاور شھوت سے روكے ركھا اس كےمتعلق ميري سفارش قبول كر، اور قرآن مجيد كہےگا: ميں نےرات كےوقت اسے سونے سے روكے ركھا، رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: توان دونوں كي سفارش قبول كي جائےگي .

  60. مسنداحمد ( 2 / 174 ) علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نے صحيح الترغيب ( 969 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

                                           کرونا کے فوائد و ثمرات

 سینما گھر ،نائٹ کلب ،رقص گاہیں ،شراب خانے ،جوا خانے بند کرا دیے
 جنسی بے راہ روی کے مراکز بند کرائے

 سودکی شرح بھی کم کرادی

 خاندانوں کوایک طویل جدائ کے بعد ان کے گھروں میں دوبارہ اکٹھا کیا 

 اس نے غیر مرد اور غیر عورت کو ایک دوسرے کو بوسا دینے سے بھی روکا 

 اس نے عالمی ادارہ صحت کو اس بات کے اعتراف پر مجبور کیا کہ شراب پینا تباہی ہے، لہذا اس سے اجتناب کیا جائے 

 اس نے صحت کے تمام اداروں کویہ بات کہنے پر مجبور کیا کہ درندے ،شکاری پرندے ،خون ،مردار اور مریض جانور صحت کے لئے تباہ کن ہیں 
اس نے انسان کوسکھایا کہ چھینکنے کا طریقہ کیا ہے 

 سکھایا اور یاد کرایا کی صفائ کس طرح کی جاتی ہے جو ہمیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے1450 سال پہلے بتایا تھا اور ھم بھلا چکے تھے

 اس نے دونوں جنسوں کے اختلاط کو مذموم قرار دیا ہے   اس نے دنیا کے بعض بڑے ممالک کےحکمرانوں کو بتا دیا کہ لوگوں کو گھروں میں پابند کرنے جبری بٹھانے اور ان کی آزادی چھین لینے کا معنی کیا ہوتا ہے

 اس نے لوگوں کواللہ سےدعا مانگنے گریہ زاری کرنے اور استغفار کرنے پر مجبور اور منکرات اور گناہ چھوڑنے پر آمادہ کیا ہے 

اس نے متکبرین کے کبر و غرور کا سر پھوڑ دیا اور انہیں عام انسانوں کی طرح لباس پہنایا 

اس نے دنیا میں کارخانوں کی زہریلی گیس اور دیگر آلودگیوں کو کم کرنے کی طرف متوجہ کیا جن آلودگیوں نے باغات، جنگلات، دریا اور سمندروں کوگندہ کیا ہے 

 اس نے ٹکنالوجی کو رب ماننے والوں کو دوبارہ حقیقی رب کی طرف متوجہ کیاہے 

 اس نے حکمرانوں کو جیلوں اورقیدیوں کی حالت ٹھیک کرنے پر آمادہ کیا ہے 

اور سب سے بڑا کارنامہ یہ کہ اس نے انسانوں کو اللہ کی وحدانیت کی طرف متوجہ کیا، شرک اور غیراللہ سے مدد مانگنے سے منع کیا 
  پوری دنیا میں تمام عیش وطرب کے مراکز بند کرا دیے
 انسان کو دوبارہ اس کی انسانیت کی طرف ،اس کے خالق کی طرف اور اس کےاخلاق کی طرف متوجہ کیا
آج عملی طور پر یہ بات واضح ہو گئی کہ کس طرح بظاہر ایک وائرس لیکن حقیقت میں اللہ کا ادنا سپاہی انسانیت کے لئے شر کے بجائے خیر کا باعث بن گیا 
اب تو پوری دنیا جان چکی ہو گی لاک ڈاؤن کیا ہے کشمیر پر سات ماہ سے کلفیو لگا ہے اور ساری عالمی طاقتیں سو رہی تہی میرے رب  نے پوری دنیا کو احساس دلایا میرے رب نے پوری دنیا کو لاک ڈاؤن کر دیا 
تو اے لوگو ! کرونا وائرس پر لعنت مت بھیجو یہ تمہارے خیر کے لئے آیا ہے کہ اب انسانیت اس طرح نہ ہو گی جس طرح پہلے تھی 
آپ بس توبہ استغفار کی طرف متوجہ ہوں اور فکر آخرت کریں نماز پنجگانہ اور قران کی تلاوت کرے ان شااللہ یہ وبا خود با خود ختم ہو جائے گی ان شااللہ ..🙏


1: فراض وواجبات کی ادائیگی اور توبہ واستغفار
آمد رمضان سے قبل فرائض وواجبات کی ادائیگی کا اہتمام کریں، اگر ذمے میں قضا نمازیں یا روزے ہوں تو ادائیگی کی ترتیب بنائیں، سابقہ زندگی کی تمام لغزشوں پر سچی توبہ کریں دل کو گناہوں اور برے خیالات سے پاک کریں،آنکھ،کان، زبان، ہاتھ، پاؤں اور دل و دماغ غرض جسم کے کسی بھی حصے سے صادر ہونے والے گناہوں پر پکی توبہ کریں تاکہ آپ گناہوں سے پاک ہوکر رمضان المبارک کا استقبال کریں۔
2: رمضان المبارک کے مسائل سیکھیں اور سکھائیں:
روزہ، تراویح، صدقۃ الفطر، زکوۃ، اعتکاف اور دیگر احکامات ابھی سے سیکھیں اور سکھائیں۔
3: اپنے نفس کو تقوی کا پابند بنائیں:
اپنے نفس کو ابھی سے تقوی کا پابند بنائیں، کیونکہ رمضان المبارک تقوی کی عملی تربیت گاہ اور اللہ رب العزت نے رمضان المبارک میں روزوں کی فرضیت کا اہم مقصد تقوی وپرہیز گاری کا حصول بتایا ہے۔
4: صلہ رحمی میں جلدی کریں:
قطع رحمی یعنی رشتے ناطے توڑنا بہت بڑا گناہ ہے، قطع رحمی کی وجہ سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں، لہذا رمضان آنے سے قبل اس سنگین گناہ سے توبہ اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے: اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ قطع رحمی یعنی رشتے ناطے توڑنے کا معاملہ کیا جائے تب بھی وہ صلہ رحمی کرے۔بخاری شریف
5: دل صاف کریں:
ہمارادل، نفرت، جذبہ، انتقام اور حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے، دل میں نفرت اور کینہ رکھنے والے کی اللہ سبحانہ وتعالیٰ مغفرت نہیں فرماتے، لہذا رمضان آنے سے قبل اپنے دل کو ان فضول مصروفیات سے فارغ کر کے خالص عبادات کی طرف اسے متوجہ کریں، سب کو دل سے معاف کردیں کسی کا کینہ اپنے دل میں نہ رکھیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: دل کے صاف ہونے سے کیا مراد ہے؟ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: وہ متقی اور صاف ستھرا دل جس میں نہ گناہ ہو نہ بغاوت، نہ ہی اس میں کسی کا کینہ ہو اور نہ کسی کے بارے میں حسد۔ سنن ابن ماجہ
6: گذشتہ روزوں کی قضاء:
گذشتہ سالوں کے روزے اگر کسی شرعی عذر سے رہ گئے ہوں تو رمضان آنے سے پہلے پہلے ان کی قضا کرلیں تاکہ رمضان شروع ہونے سے قبل گذشتہ رمضان کے روزوں کا حساب بے باق ہوجائے۔
7: دعاؤں کا معمول:
رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے، لہذا ابھی سے اپنے آپ کو لمبی دعاؤں کا عادی بنائیں، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ رمضان سے قبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعاؤں کے الفاظ زبانی یاد کیے جائیں، مسنون الفاظ پر مشتمل دعاؤں میں تاثیر بھی زیادہ ہوتی اور قبولیت کا امکان بھی۔
8: صدقہ کرنے کی عادت:
شعبان کے مہینے میں روزانہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ رمضان المبارک میں سخاوت کرنا آسان ہوجائے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم سب لوگوں میں زیادہ سخی تھے اور رمضان المبارک میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جودوسخا تیز چلتی خوشگوار ہوا سے بھی زیادہ ہوجاتی۔ صحیح بخاری
9: کثرت تلاوت کا معمول:
رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے خوش قسمت لوگ اس ماہ میں تلاوت کی کثرت کا معمول بناتے ہیں لہذا ابھی سے تلاوت قرآن کو زیادہ وقت دینا شروع کریں تاکہ رمضان کی آمد تک آپ کثرت سے تلاوت کرنے کے عادی بن جائیں نیز اگر آپ حافظ قرآن ہیں تو ابھی سے قرآن کریم دہرانا شروع کردیں۔
10: شب بیداری کی عادت:
رمضان میں راتوں کی عبادات (تراویح، تہجدوغیرہ) کا دورانیہ بڑھ جاتا، ان عبادات کو احسن انداز میں اور بلا تھکاوٹ سر انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ ابھی سے شب بیداری اور نفلی عبادات کا اہتمام کریں اور اپنے بدن کو عبادات کی کثرت کا عادی بنائیں تاکہ رمضان کی راتوں میں دقت پیش نہ آئے۔
11: انٹرنیٹ وسوشل میڈیا سے احتراز:
رمضان میں اوقات کی قدردانی بڑی اہم ہے، آج کل انٹرنیٹ وسوشل میڈیا وقت کے ضیاع کا بڑا سبب بن رہے ہیں، لہذا رمضان سے قبل ان کے استعمال کو ختم یا محدود کرنے کی کوشش کریں، امام مالکؒ ودیگر اسلافؒ کا تو یہ تک معمول تھا کہ رمضان آتے ہی علمی مجالس بھی موقوف فرمادیتے اور تلاوت قرآن میں مشغول ہوجاتے۔
12: ٹی وی سے احتراز:
ٹی وی خرافات کا مجموعہ ہے لہذا رمضان کی آمد سے قبل اس سے جان چھڑانے کی کوشش کریں ٹی وی پر رمضان نشریات کے نام پر اکثر پروگرام غیر شرعی اور مخلوط ہیں ایک آدھ دینی پروگرام درست بھی ہو تو اسے بنیاد بناکر ٹی وی کے سامنے وقت ضائع کرنا ہوشمندی نہیں کیونکہ دینی پروگرامز کے دوران اشتہارات میں موسیقی اور نامحرم عورتیں رمضان کی روحانیت ختم کرنے کے لیے کافی ہیں۔
13: رمضان سے پہلے پہلے خریداری کرلیں:
رمضان عبادت کا مہینہ ہے شاپنگ وخریداری کا نہیں نیز رمضان میں رش اور مہنگائی کی وجہ سے وقت اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے لہذا رمضان کی آمد سے قبل شعبان میں ہی عید کی شاپنگ مکمل کرلیں  اور اہل خانہ کو بھی یہ بات سمجھائیں۔
14: رمضان المبارک کے لیے کاموں کا بوجھ ہلکا رکھیں:
گھر میں کوئی تعمیراتی یا رنگ وروغن کا کام کروانا ہو، مشین کی مرمت ہو، گاڑی یا سواری کا کوئی لمبا اور پیچیدہ کام ہو اسی طرح دفاتر وکارخانوں کے محنت طلب پروجیکٹ ہوں تو انہیں رمضان المبارک سے پہلے پہلے نمٹانے کی کوشش کریں۔
15: نظام الاوقات ترتیب دیں:
رمضان المبارک سے قبل اپنا نظام الاوقات مرتب کریں، جس میں صبح اٹھ کر تہجد، ذکر، دعائیں، سحری، نماز فجر اور تلاوت سے لے کر افطاری، تراویح ودیگر معمولات تک کے لیے مناسب وقت متعین ہو اور نیند و آرام کی بھی بھر پور رعایت رکھی جائے۔
16: نوکر، خادم اور ملازم پر کاموں کا بوجھ ہلکا کریں:
رمضان المبارک کی آمد سے قبل نوکر وملازمین سے محنت طلب اور مشکل کام کروالیں تاکہ روزے کی حالت میں ملازمین پر کام کا بوجھ ہلکا رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص رمضان کے مہینے میں اپنے غلام (خادم،ملازم) کے بوجھ کو ہلکا کردے تو حق تعالیٰ شانہ اس کی مغفرت فرماتے ہیں، اور اسے آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔مشکوۃشریف
17: عمرے کی ترتیب بنائیں:
رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، صاحب ثروت لوگ ابھی سے عمرے کی ترتیب بنائیں، اسی طرح مسجد حرام اور مسجد نبوی میں اعتکاف اور نمازوں کا ثواب دیگر مساجد سے بہت زیادہ ہے، یہ ثواب حاصل کرنے کی ابھی سے کوشش کریں۔
18: زیادہ سے زیادہ وقت مسجد میں گزاریں:
عموما ہمارا دل مسجد میں نہیں لگتا، لہذا ابھی سے نمازوں کے بعد کچھ دیر مسجد میں نفلی اعتکاف کی نیت سے ٹھہریں اور مسجد میں دل لگانے کی مشق کریں تاکہ رمضان کے آخری عشرے کے مسنون اعتکاف میں بیٹھنا آسان ہوجائے۔
19: نیند کم کرنے کی عادت ڈالیں:
اگر آپ 8گھنٹے سونے کے عادی ہیں تو6 گھنٹے سونے کی عادت ڈالیں تاکہ رمضان میں دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے، البتہ تھکاوٹ سے بچنے کے لیے دن میں تھوڑی دیر قیلولہ کرلینا مسنون بھی ہے اور تہجد پڑھنے میں معین و مددگار بھی۔
20: چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ نمازیں پڑھیں:
اس کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے، نیز ماہ شعبان کے آخری عشرے اور رمضان المبارک کے تیس دنوں میں اس کا اہتمام نسبتا زیادہ آسان ہے، لہذا تکبیر اولیٰ کے ساتھ پنج وقتی نمازیں باجماعت پڑھنے کی ابھی سے ترتیب بنائیں۔
21: سگریٹ، نسوار، پان ودیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال ابھی سے محدود کریں اور کوشش کریں کہ ان سے جان چھڑالی جائے تاکہ روزے کی حالت میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، رمضان المبارک نشہ آور اشیاء سےجان چھڑانے کا بہترین موقع ہے اوراس میں ہمت، حوصلہ اور اللہ سے مدد مانگتے ہوئے ان آفات سے باآسانی جان چھڑائی جاسکتی ہے۔
22: ملاقاتوں کا سلسلہ محدود کریں:
رمضان میں تقاریب، ملاقاتوں اور دعوتوں کا سلسلہ بھی محدود کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں صرف ہوسکے، البتہ بیمار کی عیادت اور تیمارداری اسی طرح میت کی تجہیز وتکفین اور نماز جنازہ میں شرکت کے مواقع جتنے مل سکیں، غنیمت سمجھیں۔
23: چھوٹی چھوٹی سورتیں زبانی یاد کریں:
قرآن کریم کی چھوٹی چھوٹی سورتیں ابھی سے یاد کرنا شروع کریں تاکہ نوافل اور تہجد میں انہیں پڑھا جاسکے، عام طور پر صرف ایک یا دوسورتیں یاد ہوتی ہیں، اور انہی کو بار بار دہرایا جاتا ہے، جو مثالی طرز عمل نہیں۔
24: بچوں کو روزے کی عادت ڈالیں:
سات سال یا اس سے بڑے بچوں کو روزے کے حوالے سے خصوصی ترغیب دیں اور ان کی ذہن سازی کریں تاکہ رمضان میں انہیں روزے رکھنے کی عادت پڑجائے اور بچوں کے زندگی بھر کے روزے آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہوں۔
25: کم کھانے کی عادت ڈالیں:
شعبان میں کھانے کی مقدار خاص تناسب سے کم کریں، غذا میں سبزی، پھل اور کھجور کا استعمال زیادہ رکھیں تاکہ صحت وتوانائی برقرار رہے اور رمضان تک آپ کم کھانے کے عادی بن جائیں نیز زیادہ کھانے کا بوجھ، بد ہضمی اور سستی عبادات میں رکاوٹ نہ بنے۔
26: اس رمضان کو گذشتہ سے ممتاز کریں:
کسی ایسی عبادت کی ترتیب بنائیں جو آپ کے نامہ اعمال میں اس رمضان کو گذشتہ رمضانوں سے ممتاز کردے مثلا: تیسواں پارہ زبانی یاد کرلیں، یا سورۃ رحمٰن، سورۃ یسین، سورۃ الملک، سورۃالم سجدہ زبانی یاد کرلیں، یا کسی یتیم کو ڈھونڈ کر اس کی کفالت کا بندوبست کرلیں، یا جیلوں میں قید لوگوں کی تعلیم وتربیت کی ترتیب بنائیں، یا پانی کی اشد ضرورت ہو تو ٹیوب ویل، کنواں یا ٹھنڈے پانی کا پلانٹ لگوادیں، یا مساجد ومدارس کے ساتھ پر خلوص تعاون کریں، یا مستحق طلبہ کے لیے فیسوں اور یونیفارم وغیرہ کا بندوبست کرلیں، یا کسی غریب لڑکی کی رخصتی کے اخراجات کا بندوبست کردیں وغیرہ وغیرہ۔
27: ماہ شعبان کی تاریخیں یاد رکھیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کی تاریخیں یاد رکھنے کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے، ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رمضان کے لیے شعبان کے چاند گنتے رہو۔ سنن ترمذی
28: مالی حقوق سے متعلق مسائل سیکھیں:
عام طور پر رمضان المبارک میں مالی حقوق جیسے زکوۃ، عشر، صدقۃ الفطر، نذر وغیرہ کی ادائیگی کی جاتی ہے، لہذا ضروری ہے کہ ان سے متعلق تفصیلی احکامات پہلے سے معلوم کرلیے جائیں، اسی طرح جو مالی حقوق ذمہ میں ہوں (جیسے بیوی کا مہر یا کسی کا قرض وغیرہ) اور ادا کرنے کی صلاحیت بھی ہو تو رمضان سے پہلے ادا کرلیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ بخاری شریف
29: رات جلدی سونے کی عادت ڈالیں:
دوستوں کی فضول مجالس، گپ شپ کی محافل اور رات گئے تک سر انجام دی جانے والی سرگرمیوں سے آہستہ آہستہ کنارہ کشی اختیار کریں تاکہ آپ رمضان میں تراویح کے فورا بعد بلا تاخیر سوسکیں، یاد رکھیں تہجد اور سحری میں ہشاش بشاش اٹھنے کا دارو مدار بروقت سونے پر ہے۔
30: دعاؤں کا اہتمام کریں:
رمضان المبارک کی تیاری کے حوالے سے درج بالا ہدایات وتجاویز پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے رمضان المبارک کی روحانیت و برکات کے حصول کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں، بالخصوص اس دعا کا اہتمام فرمائیں:
اللہم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان 


                      توحید اپنائیے نجات پائیے


عن أَبي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عَبْدًا أَصَابَ ذَنْبًا وَرُبَّمَا قَالَ أَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ رَبِّ أَذْنَبْتُ وَرُبَّمَا قَالَ أَصَبْتُ فَاغْفِرْ لِي فَقَالَ رَبُّهُ أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ غَفَرْتُ لِعَبْدِي ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَصَابَ ذَنْبًا أَوْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ رَبِّ أَذْنَبْتُ أَوْ أَصَبْتُ آخَرَ فَاغْفِرْهُ فَقَالَ أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ غَفَرْتُ لِعَبْدِي ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا وَرُبَّمَا قَالَ أَصَابَ ذَنْبًا قَالَ قَالَ رَبِّ أَصَبْتُ أَوْ قَالَ أَذْنَبْتُ آخَرَ فَاغْفِرْهُ لِي فَقَالَ أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ غَفَرْتُ لِعَبْدِي ثَلَاثًا فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنه بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک بندے نے بہت گناہ کئے اور کہا: اے میرے رب! میں تیرا ہی گنہگار بندہ ہوں تو مجھے بخش دے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور گناہ کی وجہ سے سزا بھی دیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا پھر بندہ رکا رہا جتنا اللہ نے چاہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور عرض کیا: اے میرے رب! میں نے دوبارہ گناہ کر لیا، اسے بھی بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور اس کے بدلے میں سزا بھی دیتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا بندہ گناہ سے رکا رہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور اللہ کے حضور میں عرض کیا: اے میرے رب! میں نے گناہ پھر کر لیا ہے تو مجھے بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ورنہ اس کی وجہ سی سزا بھی دیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ تین مرتبہ، پس اب جو چاہے عمل کرے۔

صحیح بخاری حدیث نمبر: 7507

MKRdezign

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget